پاکستان کے شہر پشاور میں بالی وڈ اداکار دلیپ کمار کے گھر اور کپور خاندان کی رہائش گاہ کو میوزیم میں تبدیل کرنے کی خبر سے ان کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن اس اقدام میں اب بھی کچھ رکاوٹیں موجود ہیں
دلیپ کمار کے ترجمان فیصل فاروقی نے پشاور میں دلیپ کمار اور کپور خاندان کے آبائی گھروں کے حوالے سے موجودہ مالکان اور حکومت کے درمیان تنازع کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب سے حکومت پاکستان کی جانب سے دلیپ کمار کے گھر اور کپور حویلی کو محفوظ کرنے اور میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا اور اس حوالے سے عملی کام کا آغاز ہوا ہے، تب سے ان فنکاروں کے چاہنے والے کافی خوش ہیں۔
فیصل فاروقی نے انڈیا کے شہر ممبئی سے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان اور گھروں کے موجودہ مالکان کو چاہیے کہ وہ ’مل کر باہمی اتفاق سے قیمتوں کا تعین کریں تاکہ میوزیم قائم کرنے کا منصوبہ جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے
یاد رہے کہ مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ دلیپ کمار کے اس گھر کے موجودہ مالک نے اسے حکومت کو 80 لاکھ روپے میں فروخت کرنے سے انکار کر دیا ہے
دلیپ کمار اور کپور فیملی کے خاندانوں کی یادیں ان دونوں گھروں سے جڑی ہوئی ہیں
دلیپ کمار کے نام سے مشہور محمد یوسف خان کی پیدائش 11 دسمبر 1922 کو اسی گھر میں ہوئی تھی اور 1930 میں دلیپ کمار اپنے خاندان کے ہمراہ بمبئی چلے گئے تھے۔
2013 میں دلیپ کمار کے اس گھر کو وفاقی حکومت نے قومی ورثہ قرار دیا تھا۔ سنہ 1988 میں دلیپ کمار نے اپنے اس آبائی گھر کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت انھوں نے اپنے گھر کی دہلیز کو چوما تھا اور میڈیا کے سامنے اپنے بچپن کی یادیں دہراتے رہے تھے۔
سنہ 1997 میں دلیپ کمار کو پاکستان کے سب سے بڑے شہری اعزاز 'نشان امتیاز' سے نوازا گیا تھا۔ اس موقع پر بھی وہ پشاور میں اپنے آبائی گھر جانا چاہتے تھے مگر استقبال کے لیے آنے والے عوام کی بے پناہ بھیڑ کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔
انڈیا میں بالی وڈ کو متعدد سپر سٹارز دینے والے کپور خاندان کی ایک نسل پشاور کے اس گھر میں پیدا ہوئی تھی۔ اس کو 1918 سے لے کر 1922 کے درمیان میں راج کپور کے والد دیوان کپور نے تعمیر کروایا تھا۔


Good
ReplyDeletePost a Comment