بائیڈن انتظامیہ کا یمنی محاذ پر سعودی حمایت ختم کرنے کا اعلان. امریکہ کے بدلتے رویے کے بعد سعودی عرب کا رد عمل کیا ہوگا

امریکی صدر جو بائیڈن نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری جنگ میں سعودی عرب کو حاصل امریکی تعاون روکنے کا اعلان کیا ہے۔

چھ سالوں سے جاری اس تباہ کن جنگ میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کے نتیجے میں دسیوں لاکھوں افراد کو فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

امریکہ کی خارجہ پالیسی سے متعلق اپنی پہلی اہم تقریر میں صدر بائیڈن نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ 'یمن میں جنگ ختم ہونی چاہیے۔'

سنہ 2014 میں یمن کی کمزور حکومت اور حوثی باغیوں کے مابین تنازع شروع ہوا۔ ایک سال بعد تنازعے نے اس وقت شدید شکل اختیار کرلی جب سعودی عرب سمیت آٹھ عرب ممالک نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی حمایت سے حوثی باغیوں پر فضائی حملے شروع کر دیے۔ اور یہ حملے ہنوز جاری ہیں۔

جو بائیڈن نے جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بہت سے اہم فیصلے کیے ہیں اور اپنے پیش رو صدر کے کچھ فیصلوں کو الٹ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے
’یمن جنگ میں امریکہ سعودی عرب کی مدد نہ کرے‘

’امریکہ کے بغیر بھی سعودی عرب کا وجود رہا ہے‘

امریکہ میں زیر تربیت سعودی فوجیوں کی بے دخلی

انھوں نے امریکہ میں آنے والے تارکین وطن کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور جرمنی سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کو واپس لیا ہے۔ یہ فوجی دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے ہی جرمنی میں ہیں۔

صرف یہی نہیں، بائیڈن کے زیرقیادت امریکی حکومت سابق صدر ٹرمپ کے دور میں عرب ممالک کے ساتھ اربوں ڈالر کے فوجی معاہدوں کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

امریکہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسلحہ کی فروخت کے سودوں کو بھی عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اثر ایف 35 جنگی طیاروں کے معاہدے پر بھی پڑے گا۔

امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو گائیڈڈ میزائلوں کی فروخت بھی روک رہا ہے۔ اس سے یمن کی جنگ تو متاثر ہوگی لیکن جزیرۃ العرب میں القاعدہ کے خلاف جنگ پر اثر عودی عرب، یمن بحران کے جامع سیاسی حل کی حمایت کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور امریکہ کی جانب سے یمن بحران کے حل کی سفارتی کوششوں کا پرزور خیرمقدم کرتا ہے.

سعودی عرب نے بائیڈن کی جانب سے سعودی عرب کی خودمختاری کے تحفظ اور اس کے خلاف خطرات سے نمٹنے میں تعاون کے عزم کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع نے ٹویٹر پر لکھا: ہم بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے، خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے حملوں سے نمٹنے کے لیے صدر بائیڈن کے عزم کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم گذشتہ سات دہائیوں کی طرح امریکہ میں اپنے تمام دوستوں کے ساتھ کام کرنے کے متمنی ہیں.

1 Comments

Post a Comment

Previous Post Next Post